﷽
الحمد لله وکفٰی وسلام علیٰ خاتم الانبياء. أمّابعد!
ابرارلحق شاکر قاسمی
9666450014
نورخداہے کفرکی حرکت
پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ
بجھایانہ جائےگا
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔قرآن وسنت میں اس عقیدہ کو بہت اہمیت
کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔اس عقیدہ کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔یہ عقیدہ اتنا نازک
اورحسّاس ہے کہ اگر اس میں کسی قسم کی کمی یا کوئی شک وشبہ آجائے تو آدمی ایمان
کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے۔نیزیہ عقیدہ اتنا اہم اور نازک ہے کہ اس پر مسلمان
اپنا سب کچھ قربان تو کرسکتا ہے مگر اس میں کوئی کمی آنے نہیں دے سکتا۔یہ عقیدہ
اسلام کے دشمنوں کو ہمیشہ سے کھٹکتا رہاہے ۔اوردشمنان اسلام ہمیشہ مسلمانوں کی
صفوں میں گھس کر اس مستحکم عقیدہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن
انہیں ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔جب
بھی کسی نے اس عقیدہ پر حملہ کرنے کی ناپاک کوشش کی تو اس کی موت کو عبر ت کا ایک
نشان بنا کر اس عقیدہ کی عظمت کاا عتراف کرایا گیا۔
اس وقت جو نیا فتنہ جھوٹے شکیل بن حنیف کا کھڑا ہوا ہےوہ تمام ہی مسلمانوں کے لیے لمحہ
فکریہ بن چکاہے، یہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار بن کر مسلمانوں کی صفوں میں سے
نادان اور عقائدِاسلام سے ناواقف نوجوانوں کو بہکا رہا ہے ۔اس فتنہ کو پھیلانے
والے سوچی سمجھی پلانگ کے تحت ایسا حلیہ ولباس اختیار کیے ہوئے ہیں جو دین دار
لوگوں کا ہوتا ہے، یہ اصل میں بھیڑ کی شکل میں بھیڑیے ہیں ،جن کا مقصد یہ ہے کہ
آسانی کے ساتھ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر ہمارے مراکز اور مساجد میں نوجوانوں
کو مرتد کرتے رہیں اور ہم کو خبر بھی نہ ہو ، حقیقت میں یہ کوئی معمولی فتنہ نہیں بلکہ یہ کفر و ارتداد پھیلانے
والا فتنہ ہے، اور در حقیقت قادیانیت ہی کا نیا روپ ہے، جو ختم نبوت کو موضوع بحث
بنائے بغیر انہیں موضوعات کو اپنی فتنہ پروری کا ذریعہ بنا رہا ہے جو در حقیقت ملعون
مرزا قادیانی کے چھوڑے ہوئے شوشے ہیں۔
اس فتنہ کا بانی شکیل بن حنیف دربھنگہ
بہار کا رہنے والا اور عصری تعلیم یافتہ ہے،یہ بہار سے دہلی روزگار کی تلاش میں آیا
،اور پھر دہلی میں ایک جماعت کی سرگرمیوں
میں مشغول ہوگیا،یہ چونکہ عہدہ اور منصب کا حریص تھا اس لیے اسی وقت سے
اپنا ایک حلقہ بنا تا رہا اور جب کچھ لوگ اس کے فریب میں آگئے تو اس نے مہدی ہونے
کا دعوی کیا اس پر لوگوں نے اس کو پیٹا اور اس کو دہلی سے نکال دیا ،لیکن وہ پھر
سے دہلی کے لکشمی نگر کے محلہ میں اپنا مرکز بنا کروہاں سےاس نے اس فتنہ کی ابتداء
کی، اور اب یہ اورنگ آباد میں اپناگڑھ بنا کر لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔
نوجوانوں
کو گمراہ کرنے کے لیے شروع میں یہ کہتے ہیں کہ ہم علامات قیامت کو سائنس کے ذریعہ
بتائیں گے، اور اس طرح جب نوجوان ان کی بات سننے پر آمادہ ہوجاتے ہیں تو شروع میں
علامات قیامت کو اپنے تیار کردہ طریقہ سے سمجھاتے ہیں، اور ان علامات اور نشانیوں کو جدید ایجادات پر اس طرح فٹ کرتے ہیں کہ علامات قیامت سے متعلق نبی ﷺ کی پیشین گوئیاں
مثلاً ظہور مہدی ؓ، خروج دجال اور نزول عیسی
کا اصل مفہوم بگڑ جاتا ہے اور اس موضوع کی صاف اور واضح احادیث میں کھینچ
تان کرکے ،تاویل کرکے وہ ان کو اپنے مطلب کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں،
مثلا کہتے ہیں کہ امریکا اور فرانس یہ
دونوں ملک دجال ہیں۔دجال ایک آنکھ سے
کانا ہونے کا مطلب ’’سیٹیلائٹ‘‘ ہے،اور دجال کی سواری کا مطلب ’جنگی جہازہے،‘ اور عام
لوگ چونکہ علم دین اور احادیث سے پورے طور پر واقف نہیں ہوتےاس لیے وہ اس فتنے کے
آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں اوراس فتنہ کی جانب سے احادیث میں تحریف کرکے جو بھی مواد
پیش کیا جاتاہے وہ اس کو قبول کرتے چلےجاتےہیں ۔
یہ
فتنہ جن نوجوانوں کو اپنا ہدف بناتا ہے ان کو یہ احساس دلاتاہے کہ تمام علامات
قیامت پوری ہوچکی ہیں، اوراب حضرت عیسی ٰ علیہ السلام اورحضرت مہدی کو بھی آجانا
چاہئے اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ مہدی و مسیح شکیل بن حنیف ہی ہے، شکیل بن حنیف
کو مہدی اور مسیح ثابت کرنے کے لیے وہ وہی مواد استعمال کرتے ہیں جو قادیانیوں نے قرآن
واحادیث میں تحریف و تبدیل کرکے تیار کیا ہے، جس سے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو
مہدی اور مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں ،اسی مواد کو استعمال کرکے وہ شکیل بن حنیف پر
فٹ کرتے ہیں اور اس طرح شکیل بن حنیف کو مہدی اور مسیح منوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اور اسی طرح یہ بھی ذہنوں میں ڈالتے اور سمجھاتےہیں کہ اب
چونکہ قیامت قریب آگئی ہے لہذا تمام کاموں کو چھوڑدو اور صرف شکیل بن حنیف کومہدی
ومسیح ماننے اور منوانے کا کام کرو ۔ اور یہ کم علم اور کم عقل نوجوان اتنا بھی
نہیں سمجھتے کہ حضرت مہدی اور حضرت مسیح دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور جب دونوں
تشریف لائیں گے تو انہیں اپنے آپ کو منوانے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی بلکہ اللہ
تعالی ان کی پہچان کروا دے گا جیسا کہ
روایات میں موجود ہے، اور حضرت مہدی اور حضرت مسیح کو وہ بڑے بڑے کام انجام دینے
ہیں جن کا ذکر آگے پیش کی جانے والی احادیث میں آرہا ہے، ان کے وہ کام خود ان کے
مہدی اور مسیح ہونے کا ثبوت ہوں گے اور
انہیں اپنے مہدی یا مسیح ہونے کی دعوت نہیں دینی ہوگی۔
الحمد للہ ! ایک عرصہ سے تحفظ ختم نبوت اور اسلام سے خارج
فتنوں پر کام کرنے کا تجربہ رہا ہے ،اور پھر خاص طور پر اس فتنہ کا جب تعاقب کیا
گیا اور متأثریں سے بات کی گئی تو شدت سے یہ بات محسوس کی گئی کہ مختصرمگر جامع ایک ایسا چارٹ بنا یا جائے جس میں
حضرت مہدی اورحضرت مسیحؑ سے متعلق احادیث کو پیش کرکے اس کا موازنہ شکیل بن جنیف سے کیا جائے تاکہ عام
آدمی کو بات سمجھنے میں آسانی ہو جس میں ایک طرف حضرت مہدی اورحضرت مسیح ؑکے
حالات احادیث سے اور پھر اس کے مقابل شکیل کی حقیقت اور حالات کو واضح کیا جائے
۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری اس ناقص
کوشش کو قبول کرے اور امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت میں اس کو ایک حصہ عطا کرے ۔
حضرت
عیسی ٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن واحادیث
کامطالعہ کرنے سے پہلے انکامختصر تعارف
حضور خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے عہد سے لے کر آج تک تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ
چلا آیا ہے کہ عیسٰی ابن مریم علیہ السلام جو بنی اسرائیل میں حضرت مریم کے بطن
سے بغیر باپ کے، اللہ کے حکم پر نفخۂ
جبرئیل سے پیدا ہوئے اور پھر بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے،
اور یہود یوں نے جب ان کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالی کے حکم سے فرشتے ان کو زندہ
آسمانوں پر لے گئے ،وہ آسمانوں پر زندہ ہیں، اور جب قیامت کے قریب دجال ظاہر ہوگا
اس وقت یہی عیسٰی علیہ السلام جوحضرت مریم (علیہا السلام )کے بیٹے ہیں آسمان سے نازل ہوں گے ۔اور دجال جو اس وقت
یہود کا لیڈر اور سردار ہوگا اس کو قتل کریں گے ۔ حضرت عیسی کی خرق عادت پیدائش،
آسمانوں پر زندہ اٹھایا جانا، اور قرب قیامت نازل
ہونا سب ان کے امتیازات ہیں جو اللہ تعالی نے انہیں عطا فرمائےہیں، اور یہ
سب اللہ کی قدرت سے ہے۔
قرآن
واحادیث کی روشنی میں علاماتِ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کا نقشہ اور شکیل بن حنیف کےحالات سے ان کا تقابل
|
قرآن وحدیث کی
روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی نشانیاں
|
محمدشکیل بن حنیف کے
حالات اورمن گھڑت تاویلات
|
|
نام مبارک
کنیت
لقب
|
عیسی( ٰ علیہ السلام)
ابن مریم
مسیح
(سورۃنساء:157،159)
|
محمد شکیل
بن حنیف
کوئی لقب نہیں
(نہ ہی نام عیسیٰ ہے اور نہ ابن مریم ہے بلکہ حنیف کا
بیٹا ہے۔)
|
|
والدہ کا نام
|
مریم
وَقَوْلِهِمْ
إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ پوری دنیا میں
حضرت عیسی علیہ السلام ہی وہ ایک شخصیت ہے جنکی پیدائش بغیر باپ کے صرف ماں سے ہوئی ہے اسی وجہ سےان کو والد کے نام کے بجائے والدہ
کے نام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہےجو ایک خرق عادت پیدائش ہے
|
بن حنیف
چوں کہ شکیل کا باپ
بھی ہے اسی لیے اسےبن حنیف سے جاناجاتاہے ، اگروہ بھی خرق عادت پیداہواہوتاتو
اسے بھی اس کی ماں کے نام کے ساتھ یادکیاجاتاحالاں کہ معاملہ ایسانہیں ہے لہذا
یہ ابن مریم کیسے ہوسکتا ہے ؟
|
|
اللہ تعالی نے ابن
مریم کو اپنے پاس اٹھالیا
|
بَلْ رَفَعَهُ
اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (نساء:157)
بلکہ ان (حضرت
عیسی علیہ السلام )کو اللہ تعالی نے اپنی طرف
اٹھالیا اور اللہ تعالی بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔
|
شکیل بن حنیف کے اللہ تعالی کی طرف اٹھائے جانے پر نہ کوئی
نشانی ہے اور نہ دلیل ،لہذا اس کا مسیح ہونا چہ معنی دارد؟
|
|
عیسیٰ ابن مریم علیہ ہی السلام دوبارہ تشریف لائیں گے
|
وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ
مَوْتِهِ (النسآء:159)
اورجتنے
فرقے ہیں اہل کتاب کے وہ ان(عیسٰی علیہ السلام) پرضروربضرور ایمان لا ئیں گے ان کی موت سے
پہلے۔
بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور روایت لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ الخ کے
اخیر میں یہ الفاظ : واقرؤواان
شئتم ’وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ‘۔اس
روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد والے حالات بیان کرنے کےبعد
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
کہ اگر چاہو تو اس کی تائید میں یہ آیت پڑھ لو کہ: جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے
وہ عیسیٰ پرضرور ایمان لائیں گےانکی موت سے پہلے۔
(صحیح
بخاری ،باب نزول عیسی ابن مریم ،3448)
|
اس آیت اور بخاری کی اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت
عیسی علیہ السلام جن کو اللہ تعالی نے اپنے پاس اٹھا لیا ہے وہی دوبارہ تشریف
لائیں گے کیونکہ اس سے پہلے والی آیت میں اللہ تعالی نےحضرت عیسیٰ کو اپنے پاس اٹھائے جانے کا ذکرکیا اور اس آیت
میں ان کی موت کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس طرح حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ بات
صاف ہوگئی کہ جو آنے والے ہیں وہ عیسی ٰابن مریم ہی ہیں جن کو اللہ نے اٹھا لیا۔ او ر شکیل کی
بات کہ دوبارہ شکیل کی شکل میں حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے (نعوذباللہ )بہت بڑی گستاخی
اور کفر ہے۔نیز شکیل پر لازم ہے کہ وہ بتلائے کہ عیسی علیہ السلام کو اس کی
منحوس شکل میں نعوذباللہ آنے کی ضرورت کیوں اور کب پڑی ؟
|
||
|
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ،خدمت اور مدتِ قیام
|
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے
فرمایا:’’ یقینا میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے،وہ(مسیحؑ) نازل ہوں
گے،جب تم انہیں دیکھو تو پہچان لینا،وہ درمیانی قد وقامت کے ہوں گے ،رنگ سرخ
وسفید ہوگا،ہلکے زرد رنگ کے دوکپڑوں میں ہوں گے،سر کے بال اگرچہ بھیگے نہ ہوں تب
بھی ایسے ہوں گے کہ گویا ان سے پانی ٹپک رہا ہے ،پھر وہ اسلام کی خاطر جہاد کریں
گے ،صلیب توڑیں گے ،خنزیر کو قتل کریں گے،اور جزیہ لینا بند کردیں گے،اور حضرت
عیسی کے زمانہ میں اللہ تعالی دین اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو مٹادیں گے، مسیح
دجال کو ہلاک کریں گے، حضرت عیسیٰ زمین میں چالیس سال رہیں گے،پھر ان کی وفات
ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے‘‘۔
(سنن ابی داود،باب خروج الدجال :4324)
|
شکیل بن حنیف اس حدیث کا ہر گز مصداق نہیں ہوسکتا کیوں کہ
؛حضورﷺ آنے والے کو نبی کہہ رہے ہیں ۔اور پوی امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
ویسے ہی نبی مانتی ہے جیسے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءکرام کو۔ اور شکیل یہ کہتا
ہے کہ حضرت عیسیٰ جن کو اللہ تعالی نے اپنے پاس آسمانوں پر اٹھالیا ہے وہ نہیں
آئیں گے بلکہ شکیل ہی حضرت عیسیٰ ہے جو دوبارہ پیدا ہوکر آئے ہیں
(نعوذباللہ)۔اس سے تو ایک نبی میں اضافہ ہوجائے گا اور ختم نبوت کے خلاف عقیدہ
ہوجائے گا کیونکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں ایک کا اضافہ ہوگا اور یہ
سراسر کفرہے۔اور نہ ہی اس کا حلیہ حدیث مذکور کے مطابق ہے، اور نہ اس کے زمانہ
میں عیسائیت کا خاتمہ ہوا،اور اسلام کے علاوہ بہت سے مذاہب باقی ہیں ۔اور نہ اس
کی حکومت اب تک کسی چھوٹے سے بقعہ ارض پر قائم ہوئی چہ جائے کہ پوری سرزمین پر! اس
سے معلوم ہوا کہ شکیل بس جھوٹا ،مفتری وکذاب ہے۔
|
||
|
حضرت عیسی ٰ کا مقام نز ول اور کیفیت
|
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول
اللہﷺ نے ایک دن دجال کے تذکرہ کے دوران فرمایا:
’’اللہ تعالی
حضرت مسیح ابن مریم کو بھیجیں گے ،وہ دمشق کے مشرقی جانب میں سفید مینارہ پر سے
اتریں گے ،اس وقت وہ ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے
بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے ……
(صحیح
مسلم، باب ذکر الدجال :2938)
|
شکیل بن حنیف نے نہ دمشق دیکھا اور نہ وہاں پر نازل ہوا
بلکہ ہندوستان میں پیدا ہوا اور یہیں دعوی کیا حالانکہ حدیث میں حضرت عیسیٰ کا دمشق کے مشرقی حصہ میں دوفرشتوں کے
کاندھوں پر ہاتھ رکھ کے اترنے کا ذکر ہے ۔
لہذاشکیل کا اس
حدیث سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ ملعون کواس صحیح حدیث کاانکارکرتے
ہوئے بھی جھجھک نہ ہوئی!
|
||
|
حضرت عیسیٰ کے کام اور خدمات
|
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے
فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ،وہ وقت ضرور آئے گا جب
تم میں عیسی ابن مریم عادل حکمران بن کر نازل ہوں گے،صلیب (cross)کو توڑدیں گے،خنزیر کو قتل کریں گے(یعنی خنزیر کے
حرام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی نسل کو ختم کردینے کا حکم دیں گے)،جزیہ کو
موقوف کریں گے (آپ کے نزول کے بعد تمام مذاہب ختم ہوجائیں گے اور سب مسلمان ہوجائیں
گے تو غیر مسلموں سے ٹیکس اور جزیہ لینے کی ضرورت ہی نہ رہے گی)اور مال ودولت کی
ایسی فراوانی ہوگی کہ کوئی صدقات قبول کرنے والا نہیں ہوگا،ایک سجدہ پوری دنیا
سے بہتر ہوگا ۔
(صحیح بخاری ،باب نزول عیسیٰ ابن مریم :3448)
|
شکیل بن حنیف کا ان تمام صفات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ
تمام کام جو حدیث میں حضرت عیسیٰ کی نشانیوں
کے طور پر مذکور ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی شکیل بن حنیف نہیں کررہا ہے
۔اس کے بجائے یہ اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ منوانے کا کام کررہا ہے(نعوذ باللہ )جب کہ
خود کے عیسی ہونے کو منوانے کی کوشش کرنا حدیث میں مذکور ہی نہیں اس سے خود اس کے
جھوٹے ہونے کا ثبوت مل گیا کیونکہ آپﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی یعنی میرے بعد
کوئی نبی نہیں جن کو ماننا پڑے،اور جہاں تک حضرت عیسیٰ کا معاملہ ہے ان کو نبی
مانے بغیر ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا لیکن اب جوشکیل کو عیسی منوانے کی محنت
ہورہی ہے گویا ایک اور تشخص کو نبی
ماننے کو کہا جا رہا ہے اور یہ سراسر کفر ہے ۔
|
|
حضرت عیسی کے لیے آسمان سے نازل
ہونےکی صراحت
|
حضرت ابوقتادہ
انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام نافع نے کہا: حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ
آنحضرت ﷺ نے فرمایا:’’اسوقت تمہا را کیا حال ہوگا جب تم میں عیسیٰ ابن مریم
آسمان سے ناز ل ہوں گے اور تمہارا ا ِمام (حضرت مہدی) بھی تم میں سے ہوگا‘‘۔
(کتاب الاسماء
والصفات للبیہقی باب قول اللہ عزوجل اذقال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک)
|
شکیل بن حنیف یہ
کہتا ہے کہ احادیث میں حضرت مسیح کے بارے میں جو نازل ہونے کا لفظ استعمال کیا
گیا ہے اس کے معنی آسمان سے نازل ہونا
نہیں بلکہ پیدا ہونا ہے ۔ حالانکہ اس حدیث میں صاف آسمان سے نازل ہونے کا ذکر
موجود ہے۔اور پھر حضرت عیسیٰ دمشق میں نازل ہوں گے اور حضرت مہدی مدینہ کے رہنے
والےہوں گے اور مکہ میں ان کو پہچانا جائیگاپھر دونوں ایک کیسے ہوسکتے ہیں۔نیز
سوال یہ ہے کہ اگر نزول کے معنی خلق کے ہیں تو لفظ نزول کے استعمال کی کیاضرورت
تھی کیانعوذ باللہ پیارے نبی ﷺ کو نزول
اور خلق کے درمیان کا فرق بھی معلوم نہیں تھا؟
|
|
مہدی اور عیسی ٰ
دونوں الگ الگ شخصیات ہیں
|
حضرت
ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺنے ارشاد فرمایا : ’’وہ
امت کبھی ہلاک نہیں ہو گی جس کے اول میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم
علیہ السلام اور درمیان میں مہدی علیہ الرضوان ہوں‘‘۔
(کنزالعمال
جلد ۱۴ صفحہ ۲۶۶ حدیث ۳۸۶۷۱)
|
شکیل بن حنیف کہتا
ہے کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں ایک ہی شخصیت کے دو نام ہے اور
وہ میں ہوں (نعوذ باللہ )حالانکہ قرآن و احادیث میں جتنی حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی کے بارے میں
نشانیاں موجود ہیں ان میں دونوں کے نام ،کام، اورحلیہ،اسی طرح آنے کی جگہ سب الگ الگ ذکر کیا گیا ہے اور
ان تمام نشانیوں میں کوئی ایک بھی شکیل پر فٹ نہیں ہوتی ۔حدیث بتلاتی ہے کہ
دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں اور یہ ملعون کہتاہے کہ یہ دونوں ایک شخصیت ہے لہذا حادیث کی مانیں یااس زندیق کی؟
|
حضرت
مہدی کے بارے میں احادیث کامطالعہ کرنے سے
پہلے انکامختصر تعارف
حضرت
مہدی سید اورحضرت فاطمہ زہراؓ کی اولادمیں سے ہوں گے۔آپ کا نام محمد والد کا نام
عبداللہ ہوگا۔روشن وکشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے ہوں گے۔حضرت مہدی مدینہ منورہ
کے رہنے والے ہوں گےخلیفہ کے انتقال پر انہیں یہ ڈر ہوگا کہ کہیں انہیں خلیفہ نہ
بنادیا جائے اس ڈر سے مکہ معظمہ چلے جائیں گے۔ مکہ مکرمہ میں حجر اسود اور مقام
ابراھیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے
ہوں گے کہ مسلمانوں کی برگزیدہ اور صالحین کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی
اورآٖپ کے نہ چاہنے کے باوجود اصرار کرکے خلافت پر بیعت کریگی۔یہ خبر جب اسلامی
دنیا میں پھیلے گی تو خراسان سے ایک لشکر آپ کی مدد کے لیے آئیے گا ۔اور دوسرا
سفیانی لشکرحضرت مہدی کے مقابلہ کے لیے
آئیے گا جو مکہ ومدینہ کے درمیان مقام بیدا میں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ یہ
حال سن کر عیسائی بھی چاروں طرف سے فوجوں کو لے کرحضرت مہدی کے مقابلہ کے لیے کثیر
تعداد میں جمع ہونگے اور حضرت مہدی کے ساتھ خونریز جنگ ہوگی اور آخر میں امام
مہدی کو فتح مبین حاصل ہوگی۔اور آپ زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھردیں گے جس
طرح آپ کے ظہور سے پہلے زمین ظلم اور جور سے بھری ہوئی تھی ۔اور آپ سات سال تک حکومت کریں گے۔اور جب دجال
کا ظہور ہوگا اور حضرت عیسی علیہ السلام اس کو قتل کرنے کےلیے آسمان سے نازل ہونگے
تو حضرت عیسی ٰ علیہ السلام حضرت مہدی علیہ الرضوان کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں گے۔ جب آپ کی وفات ہو گی تو لوگ آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
احادیث
کی روشنی میں علاماتِ مہدی کا نقشہ اور شکیل بن حنیف کےحالات سے ان کا تقابل
|
احادیث کی روشنی میں علاماتِ مہدی
|
محمدشکیل بن حنیف کے حالات
|
|
خاندان
|
حضرت اْمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول
اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:’’مہدی میرے خاندان میں سے فاطمہ ؓکی اولاد میں سے
ہوں گے‘‘
(سنن ابی داود،کتاب المھدی باب فی ذکرالمھدی4284)
|
شکیل بن حنیف کا تعلق حضرت فاطمہ کی اولاد سے نہیں ہے اور
یہ اس حدیث کا انکار اس طرح کرتا ہے کہ آج خاندان کا علم کس کو ہے،حالانکہ آج
بھی اہل عرب خاص کر اپنے نسب کو بھر پور جانتے ہیں۔
|
|
نام اور
والد کانام
|
حضرت عبداللہ رضی
اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’اگر دنیا کو ختم ہونے میں ایک
دن بھی باقی ہو ۔تو اللہ تعالی اس ایک دن کو لمبا کریں گے،یہاں تک کہ میرے
خاندان سے ایک شخص کو مبعوث کیا جائے گا ،ان کانام میرے نام پر ہوگا اور ان کے
والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا ‘‘
(سنن ابی داود،کتاب
المھدی باب فی ذکرالمھدی 4282)
|
اس شخص کا نام شکیل
ہے ،جو حدیث میں ذکر کردہ نام کے خلاف ہے ،اس کا یہ کہنا ہے کہ میرا نام محمد
شکیل ہے اور اس میں محمد آیا ہے حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے یہاں اکثر
نام کے شروع میں آپﷺ کی نسبت کے لیے محمد استعمال ہوتا ہے جو نام کا حصہ ہوتا
ہے لیکن اصل نام نہیں ہوتا ہے ۔اس کے والد کا نام حنیف ہے حالانکہ آپ ﷺ کے والد
کا نام عبد اللہ تھااور حضرت مہدی کے والد کا نام بھی عبداللہ ہوگا۔
یہ حدیث اس پرکسی
طرح فٹ نہیں ہوتی۔لہذاوہ دعوی مہدویت میں سراسر جھوٹاہے۔
|
|
حلیہ و
کارنامے
اور زمین کو عدل وانصاف بھرنا
|
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا :’’مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے ،روشن وکشادہ پیشانی اور
اونچی ناک والے ہوں گے ،وہ زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دیں گے جیسا کہ
زمین ان کے ظہور سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوئی تھی،وہ سات سال حکومت کریں گے‘‘۔
(سنن ابی داود کتاب المھدی باب فی ذکر المھدی 4285)
|
شکیل بن حنیف کا
ان صفات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نہ ہی اس کا حلیہ ایسا ہے اور نہ اس کو حکومت سے کوئی تعلق ہے۔ نہ روئے
ارض پر پھیلے ہوئے ظلم و جور کو ختم کرنے کےلئے اس کا کوئی کام ہے، نہ زمین کو
عدل و انصاف سے بھرنے کا اس کا کوئی عمل ہے۔نیز حضرت مہدی کے بارے میں صاف الفاظ
احادیث میں ظہور کے آئے ہیں اور شکیل روپوش ہے اور ظہور سے خائف ہے۔
|
|
حضرت مہدی کا ظہور اور خلافت پر بیعت اور سفیانی لشکر جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا
|
اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’خلیفہ کی وفات کے بعد لوگوں میں (نئے خلیفہ کے
انتخاب کے لیے)اختلاف ہوگا ،اس وقت مدینہ سے
ایک شخص (حضرت مہدی)بھاگ کر مکہ مکرمہ آئیں گے ،مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ اُن کے
یہاں حاضر ہوں گے ،اور ان کے نہ چاہنے کےباوجود خلافت پر آمادہ کریں گے ،پھر
حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان
اُن کی خلافت پر بیعت کریں گےتو ملکِ شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لئے روانہ ہوگا
(جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان بیداء (چٹیل میدان) میں
زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا، حضرت مہدی کے مخالف کے (اس عبرت خیز ہلاکت کے
بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آ
کر حضرت مہدی سے بیعتِ خلافت کریں گے۔
(سنن ابی داود،کتاب
المھدی 4286)
|
شکیل بن حنیف نہ ہی
مدینہ کا ہے اور نہ
مکہ اور مدینہ
کا سفر کیا ہے۔
اس میں سے ایک نشانی بھی اس پر صادق نہیں ا ٓتی
۔مگر گمراہ
کرنے کے لیے کہتا ہے کہ مدینہ
سے مراد شہر ہے اور وہ دہلی ہے حالانکہ اس حدیث میں مدینہ سے مکہ جانے کاذکر ہے اور
یہ دونوں وہ شہر ہے جس کو ایک بچہ بھی
بتا سکتاہے ۔تعجب اورحیرت تو اس بات پر
ہے کہ اس کی ان بے جا تاویلات پر مسلم نوجوان دھیان کیسے دے دیتے ہیں بجائے اس
کے کہ ان تاویلات پراس کی اچھے سے ضرب وتادیب کریں!
دوسری بات جو اس حدیث میں ہے وہ یہ کہ
مکہ میں خانہ کعبہ
کے پاس حجر
اسود اور مقام ابراہیم کے
درمیان بیعت ہوگی اور
شکیل بن حنیف وہاں
بیعت تو کیا
کراتا وہاں جا
بھی نہیں سکا
ہے۔اور حدیث میں مہدی کی نشانی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ
مہدی خود دعوی نہیں
کریں گےکہ میں مہدی
ہوں بلکہ لوگ
انہیں شہر مکہ میں
دیکھ کر پہچانیں
گے۔اور آمادہ نہ ہونے کے باوجود بیعت کریں گے۔حالانکہ یہ صاحب اپنے مہدی
ہونے کے نہ صرف یہ کہ مدعی ہیں بل کہ جو ان کو نہ مانے اس کی تکفیربھی کرتے ہیں
،الالعنة اللہ علی الکذبین
|
دجال کا مختصر تعارف :اسلامی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں دجال ایک شخص
(متعین) کا نام ہے۔
جس کی فتنہ پردازیوں سے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی امتوں
کو ڈراتے آئےہیں گویا دجال ایک ایسا خطرناک فتنہ پرور ہوگاجس کی خوفناک خدا دشمنی
پر تمام انبیاء علیہم السلام کا اجماع ہے،وہ
عراق و شام کے درمیانی راستہ سے خروج کرے گا،تمام دنیا کو فتنہ و فساد میں مبتلا
کردے گا،خدائی کا دعویٰ کرے گا، ایک آنکھ بینائی سے محروم اور ابھری ہوئی ہوگی (یعنی
وہ کانا ہوگا)۔ مکہ ومدینہ جانے کا ارادہ کرے گا،حرمین کی حفاظت پر مامور،اﷲتعالیٰ
کے فرشتے اس کا منہ موڑ دیں گے۔ وہ مکہ و مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا،اس کے
متبعین زیادہ تر یہودی ہوں گے۔ سترہزار یہودیوں کی جماعت اس کی فوج میں شامل ہوگی۔مقام ُلد پر
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا،اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حربہ
(ہتھیار) سے قتل ہوگا۔
|
احادیث کی روشنی میں دجّال کی نشانیاں
|
شکیل بن حنیف کی تحریفات
|
|
دجال ایک شخصیت ہے
|
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ فرمایا کہ ایک دن میں خواب
میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو دیکھا کہ........کہ سرخ رنگ کا ایک فربہ آدمی
پیچیدہ بالوں والا داہنی آنکھ سے کانا اس کی آنکھ پھولےہوئے انگور کی طرح تھی
موجود ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ دجال ہے اور اس سے سب سے زیادہ
مشابہ ابن قطن ہے زہری نے کہا ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی تھا جو زمانہ
جاہلیت میں مر گیا تھا۔
(صحیح بخاری:حدیث نمبر 701)
|
شکیل بن حنیف دجّال کو امریکا اور فرانس کہتا ہے حالانکہ
نبی کریمﷺ اس کورَجُلٌ أَحْمَرُ کہہ رہے ہیں اور
اس کو ابن قطن جو ایک آدمی تھا اس سے مشابہ کہہ رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ
دجال ایک ذات معین ہے اوراس کے بارے میں شکیل کا امریکا اور فرانس ہونے کا دعوی
بے بنیاد تاویل ، صریح جھوٹ اور جہالت ہے۔
|
|
دجال
کا حلیہ
|
حضرت عبادہ
بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس اندیشہ کے
تحت کہ تم دجال کا حال وحلیہ سمجھ نہ سکو ،میں تم سے اس کا حلیہ بیان کرتا ہوں
کہ وہ نہایت پستہ قد ہوگا ،بال گھنگریالے ہوں گے ،ایک آنکھ سے کانا ہوگا ،دوسری
آنکھ سپاٹ ہوگی اس طرح پر کہ نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر کو دھنسی ہوگی ،اس کے
بعد بھی اگر تمہیں اس کے حلیہ کے تعلق سے کچھ شبہ ہوجائے تو اتنا ضرور یاد رکھو
کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے‘‘۔
(سنن ابی
داوؤد ،کتاب الملاحم،باب خروج الدجال ،432)
|
شکیل کہتا
ہے کہ دجّال امریکا اور فرانس ہے حالانکہ اللہ کے نبی اس کا حلیہ جو بتا رہے ہیں
وہ ایک انسان کاہے۔ فاعتبروا
یااولی الابصار
|
|
مکہ اور
مدینہ میں دجال داخل نہ ہوسکے گا
|
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے
فرمایا: ’’مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ دُنیا کے ہر شہر میں دجال داخل
ہوگا،ان دونوں مقدس شہروں کے تمام راستوں پر فرشتے صف بستہ حفاظت کررہے ہوں گے
،پھر مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گےجس کے ذریعہ اللہ تعالی ہر کافر اور
منافق کو (مکہ ومدینہ سے)نکال دے گا‘‘۔
(صحیح بخاری :کتاب فضائل المدینہ ،باب لایدخل الدجال
المدینۃ1881)
|
شکیل بن حنیف کہتا ہے سٹیلائٹ دجال کی آنکھ ہے اللہ کے نبی فرمارہے ہیں کہ دجال مکہ
اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور آج سٹلائٹ سے مکہ اور مدینہ میں بھر پور
فائد اٹھا یا جارہا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شکیل جھوٹا ہے۔
|